رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین کی زمین کی ملکیت صرف 2 فیصد ہے جبکہ 67 فیصد خواتین زراعت سے وابستہ ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں صرف 2 فیصد خواتین زمین کی مالک ہیں۔ ملک کی 67 فیصد ملازمت پیشہ خواتین زراعت میں مصروف ہیں، مگر زمین کی ملکیت میں ان کی نمایاں کمی ہے۔
سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق صرف 1.5 فیصد زرعی گھرانے سرکاری طور پر خواتین کے زیر سربراہی ہیں۔ سندھ میں 99.1 فیصد خواتین کے پاس اکیلے یا مشترکہ طور پر زمین نہیں ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین کو مالی اور ڈیجیٹل شعبوں میں بھی صنفی فرق کا سامنا ہے۔ 56 فیصد مردوں کے پاس مکمل مالیاتی اکاؤنٹ موجود ہے جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 14 فیصد ہے۔
واضح رہے کہ خواتین کو موسمیاتی خطرات کا سامنا بھی ہے۔ گزشتہ پانچ برس میں 10 میں سے 9 خواتین کسانوں کو شدید موسمیاتی واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔
یاد رہے کہ پاکستان دنیا کے موسمیاتی خطرات سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے۔ خواتین کی مالی شمولیت ملکی زرعی لچک اور معیشتی استحکام سے جڑی ہے۔











