مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟ ایران کے نئے سپریم لیڈر کا علمی، عسکری اور سیاسی سفر

مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے، جو آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے بیٹے ہیں اور فوجی، دینی و تحقیقی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)ایران میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی وفات کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو شدید علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال کا سامنا ہے۔ مجتبیٰ، جو آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے ہیں، فوجی، دینی اور فکری حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور ان کا انتخاب ایران کے سیاسی تسلسل کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران عراق جنگ میں فعال کردار ادا کیا تھا اور انقلابی افواج کے ساتھ محاذ پر موجود رہے تھے۔ ان کے جنگی تجربے نے انہیں ایرانی انقلابی اداروں اور فوجی قیادت کے قریب کر دیا۔

جنگی تجربہ اور دفاعِ مقدس

مجتبیٰ خامنہ ای کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ایران عراق جنگ کے دوران گزرا جسے ایران میں “دفاع مقدس” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس جنگ کے دوران انہوں نے عملی طور پر محاذ پر شرکت کی اور انقلابی افواج کے ساتھ جنگی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

رپورٹس کے مطابق وہ لشکر حضرت محمد رسول اللہ کے معروف یونٹ “گردان حبیب” کے مجاہدین کے ساتھ جنگی محاذ پر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے ایران اور اسلامی انقلاب کے دفاع میں اپنا کردار ادا کیا۔ 

ایران عراق جنگ نے نہ صرف ایرانی معاشرے بلکہ اس نسل کی سیاسی سوچ کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا۔ مجتبیٰ خامنہ ای بھی اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جس نے جنگ کے تجربے کے ساتھ اپنی سیاسی اور نظریاتی شناخت تشکیل دی۔ مبصرین کے مطابق یہی تجربہ انہیں ایرانی انقلابی اداروں اور فوجی قیادت کے قریب لانے کا سبب بھی بنا۔

انہوں نے مشہد اور قم میں دینی تعلیم حاصل کی اور اب ایک سنجیدہ محقق اور معلم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحقیق کا دائرہ فقہ، اصول فقہ اور اسلامی قانون کے موضوعات تک پھیلا ہوا ہے۔

مشہد سے قم تک علمی سفر

مجتبیٰ خامنہ ای 1970 میں ایران کے مذہبی شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں دینی تعلیم اور سیاسی شعور دونوں کو اہمیت حاصل تھی۔

انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم تہران کے معروف مذہبی ادارے مدرسہ آیت اللہ مجتہدی میں حاصل کی۔ کم عمری سے ہی انہوں نے دینی علوم کی طرف توجہ دی اور حوزوی تعلیم کے باقاعدہ سفر کا آغاز کیا۔ 

ایران عراق جنگ کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم کو آگے بڑھانے کے لیے قم کا رخ کیا جو شیعہ دینی تعلیم کا سب سے اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں انہوں نے فقہ اور اصول فقہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کئی سال تک دروس خارج میں شرکت کی۔

1997 میں انہوں نے بانو زہرا بنت حداد عادل سے شادی کی اور اسی سال دوبارہ قم منتقل ہو کر مستقل طور پر حوزہ علمیہ سے وابستہ ہو گئے۔ 

تحقیق اور اجتہادی فکر

مجتبیٰ خامنہ ای کو حوزہ علمیہ قم کے حلقوں میں ایک سنجیدہ محقق اور صاحبِ فکر عالم کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کا دائرہ فقہ، اصول فقہ اور اسلامی قانون کے مختلف پہلوؤں تک پھیلا ہوا ہے۔

انہوں نے شرعی احکام کی نوعیت، فقہی اصولوں کی درجہ بندی اور حدیثی روایت کے ارتقا جیسے موضوعات پر علمی مباحث پیش کیے ہیں۔ ان کے علمی کام میں کلاسیکی فقہی مکاتب جیسے شیخ انصاری، آخوند خراسانی اور امام خمینی کے نظریات کا اثر نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ 

حوزہ کے حلقوں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ روایتی اسلامی علوم کو جدید مسائل کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ ایک علمی محقق کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

تدریس اور درس خارج

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنی علمی سرگرمیوں کے ساتھ تدریس کو بھی اہمیت دی۔ ابتدائی طور پر انہوں نے تہران میں مقدماتی دینی دروس پڑھائے اور بعد میں فقہ اور اصول کے اعلیٰ دروس دینا شروع کیے۔

1995 میں انہوں نے “کتاب معالم” کی تدریس شروع کی جبکہ بعد میں حوزہ کے نصاب میں تبدیلی کے بعد انہوں نے شہید آیت اللہ محمد باقر صدر کی کتاب “حلقات” پڑھانا شروع کی۔ 

قم منتقل ہونے کے بعد انہوں نے فقہ اور اصول فقہ کے دروس خارج کا آغاز کیا۔ 2009 میں فقہ کا درس خارج شروع ہوا جبکہ 2010 میں اصول فقہ کا درس خارج بھی شروع کیا گیا۔ یہ دروس کئی برس تک جاری رہے اور حوزہ کے طلبہ میں خاصی مقبولیت حاصل کرتے رہے۔ 

ان کے درس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ فقہ کے درس سے پہلے قرآن کریم کی تفسیر کے لیے مختصر وقت مخصوص کرتے تھے۔ ان مباحث میں وہ جدید اور تحقیقی نکات پیش کرتے تھے جس سے طلبہ کو فقہی مباحث کو وسیع تناظر میں سمجھنے میں مدد ملتی تھی۔

کورونا وبا سے پہلے ان کے درس میں تقریباً 400 طلبہ شریک ہوتے تھے جبکہ بعد میں آن لائن ذرائع کے ذریعے یہ تعداد بڑھ گئی اور 2023 میں تقریباً 1300 افراد نے ان کے دروس کے لیے رجسٹریشن کروائی۔ 

نئی قیادت کا چیلنج

ایران میں سپریم لیڈر کا منصب ریاست کے سب سے طاقتور عہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ سپریم لیڈر مسلح افواج کے سربراہ ہوتے ہیں اور ملک کی خارجہ اور دفاعی پالیسی سمیت اہم ریاستی فیصلوں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسے میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کو صرف قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے کا آغاز سمجھا جا رہا ہے جب ایران کو داخلی استحکام اور بیرونی دباؤ دونوں کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی زندگی کے تین پہلو  ایران عراق جنگ کا تجربہ، دینی و تحقیقی پس منظر اور حوزہ میں تدریسی کردار آئندہ برسوں میں ان کی قیادت کے انداز کو شکل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نئے سپریم لیڈر کے طور پر ان کی تقرری ایران کی داخلی استحکام اور بیرونی دباؤ کے تناظر میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں