یونیسف کے مطابق امریکی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں مشرق وسطی کے تقریباً 200 بچے ہلاک ہو چکے ہیں، زیادہ تر ایران میں۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے کہا ہے کہ ایران میں جاری فوجی کشیدگی کے نتیجے میں تقریباً 180 بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جاری حملے بچوں اور شہری آبادی کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق 28 فروری کو جنوبی ایران کے شہر مناب میں شجرہ طیبہ گرلز ایلیمنٹری اسکول پر حملے کے نتیجے میں 168 طالبات ہلاک ہوئیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسکول میں کلاسز جاری تھیں۔ رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ہلاک ہونے والی بچیوں کی عمر 7 سے 12 سال کے درمیان تھی۔
ادارے نے مزید بتایا کہ ایران کے مختلف علاقوں میں دیگر اسکولوں پر حملوں کے دوران مزید 12 بچوں کی ہلاکت ہوئی۔ ان واقعات میں پانچ مختلف مقامات پر تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔
UNICEF is deeply concerned about the deadly impact the ongoing military escalation in Iran is having on children. Approximately 180 children have reportedly been killed and many more injured.
Full statement by UNICEF in the Middle East and North Africa:…
— UNICEF (@UNICEF) March 5, 2026
یونیسیف کے مطابق جنگ اور تشدد کے دوران بچوں کی ہلاکتیں اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ مسلح تنازعات کا سب سے بڑا اثر بچوں، خاندانوں اور معاشروں پر پڑتا ہے اور اس کے اثرات کئی نسلوں تک رہ سکتے ہیں۔
ادارے نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت بچوں اور تعلیمی اداروں کو تحفظ حاصل ہے اور اسکولوں کو محفوظ مقامات ہونا چاہیے۔ تاہم جاری حملوں کے باعث کم از کم 20 اسکول اور 10 اسپتال متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے بچوں کی تعلیم اور طبی سہولیات تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔
یونیسیف نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پابندی کریں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ادارے کے مطابق بچوں کی جان اور سلامتی کا تحفظ ہر صورت میں یقینی بنایا جانا چاہیے جبکہ یونیسف متاثرہ بچوں اور خاندانوں کی انسانی امداد کے لیے صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہے۔













