کردستان حکومت نے ایران میں کرد گروپوں کی حمایت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں امن کے حامی ہیں اور کشیدگی کو بڑھانے کا حصہ نہیں ہیں۔
بغداد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عراق کے نیم خودمختار علاقے کردستان کی علاقائی حکومت نے ایران میں کرد اپوزیشن گروپوں کو اسلحہ دینے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کے ترجمان پیشوا ہاورامانی نے کہا کہ ایسی تمام رپورٹس بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔
ترجمان کے مطابق، کردستان ریجن کی حکومت یا اس کے اندر موجود سیاسی جماعتیں خطے میں جنگ یا کشیدگی کو بڑھانے کی کسی مہم کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض حلقوں کی جانب سے ایسے الزامات دانستہ طور پر پھیلائے جا رہے ہیں۔
پیشوا ہاورامانی نے کہا کہ کردستان ریجن خطے میں امن اور استحکام کا حامی ہے اور کشیدگی میں کمی کے لیے کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کسی بھی ایسی سرگرمی میں شامل نہیں جو ہمسایہ ممالک کے ساتھ تصادم کو بڑھائے۔
Reports that speak about a role of the Kurdistan Region and the allegations claiming that we are part of a plan to arm and send Kurdish opposition parties into Iranian territory are completely unfounded. We categorically deny them and affirm that they are being published… pic.twitter.com/886YdwOFdU
— Kurdistan Regional Government (@Kurdistan) March 5, 2026
انہوں نے کردستان ریجن پر ہونے والے حالیہ حملوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ان کارروائیوں سے شہریوں اور علاقے کے امن کو خطرہ لاحق ہے۔ ترجمان نے عراقی وفاقی حکومت اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کو روکنے اور علاقے کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں سوشل میڈیا اور بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ کردستان ریجن ایران کے اندر کرد گروپوں کی سرگرمیوں میں کردار ادا کر رہا ہے، جس کی علاقائی حکومت نے تردید کر دی ہے۔













