امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی میزائل تیاری کی صلاحیت کو خطے کے دفاعی ذخائر پر دباؤ کا سبب قرار دیا، اتحادی ممالک مزید دفاعی میزائلوں کی طلب کر رہے ہیں۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران ہر ماہ 100 سے زائد بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ دفاعی انٹرسیپٹر میزائلوں کی پیداوار محدود ہونے کے باعث جاری جنگ میں میزائل دفاعی نظام کے ذخائر پر دباؤ کا خدشہ ہے۔
خلیج میں امریکا کے اتحادی ممالک انٹرسیپٹر میزائلوں کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں اور انہوں نے مزید دفاعی میزائلوں کے لیے امریکا سے رابطہ کیا ہے۔ خاص طور پر قطر امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ضرورت پر مزید دفاعی نظام حاصل کیا جا سکے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی ایران کے تقریباً 2,000 اہداف کو نشانہ بنا چکے ہیں، جس میں 2,000 سے زائد ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔ ان کارروائیوں میں ایران کے سینکڑوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون تباہ کیے گئے ہیں جبکہ ایران نے جواب میں 500 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 2,000 سے زیادہ ڈرون داغے ہیں۔
ایڈمرل کوپر کے مطابق ایرانی فوج کی حملہ آور صلاحیت کم ہو رہی ہے جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جنگی طاقت بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ہر میزائل کو روکنے کے لیے مہنگے اور پیچیدہ دفاعی نظام استعمال کرنا پڑتا ہے جس میں تربیت، ٹیکنالوجی اور تیاری کے طویل مراحل شامل ہوتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ابتدائی اندازے کے مطابق جنگ 4 سے 5 ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور امریکی دفاعی صنعت کو ہنگامی بنیادوں پر مزید ہتھیار تیار کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں تاکہ درمیانی درجے کے ہتھیاروں کے ذخائر مضبوط رہیں۔











