قے سے روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے احکام

کراچی: قے کی صورت میں روزہ بلا اختیار ہونے پر نہیں ٹوٹتا، لیکن قصداً قے کرنے پر منہ بھرنے کی صورت میں روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
قے سے روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے احکام

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قے کی صورت میں روزہ ٹوٹنے کے بارے میں مختلف احکام ہیں۔ اگر قے بلا اختیار ہو، تو روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے منہ بھر ہو یا کم۔ لیکن اگر قصداً قے کی جائے اور وہ منہ بھر ہو تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔

تنویر الابصار کے مطابق، اگر بلا اختیار قے ہو جائے اور حلق میں نہ لوٹے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، خواہ منہ بھر ہو یا نہ ہو۔

اگر کوئی شخص جان بوجھ کر قے کرتا ہے اور وہ منہ بھر ہے تو تمام علما کے مطابق روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ اگر منہ بھر سے کم ہو تو روزہ نہیں ٹوٹتا۔

علامہ نظام الدین رحمہ اللہ کے مطابق، اگر قے میں کھانا، صفراء یا خون آئے تو روزہ ٹوٹ سکتا ہے، لیکن بلغم آنے پر نہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بے اختیار قے کرنے پر قضا واجب نہیں، لیکن قصداً قے کرنے پر روزے کی قضا لازم ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں