ریاض میں 14 عرب ممالک نے امریکی سفیر کے اسرائیل سے متعلق بیانات پر مذمت کی ہے، جسے خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔
عمان: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سعودی عرب سمیت 14 عرب ممالک کی وزارت خارجہ نے امریکی سفیر کے اسرائیل سے متعلق بیانات پر مشترکہ ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے عرب ریاستوں کی زمینوں پر ممکنہ کنٹرول کی مذمت کی۔
Joint Statement
The Ministries of Foreign Affairs of the Hashemite Kingdom of Jordan, the United Arab Emirates, the Republic of Indonesia, the Islamic Republic of Pakistan, the Kingdom of Bahrain, the Republic of Türkiye, the Kingdom of Saudi Arabia, the Syrian Arab Republic,… pic.twitter.com/ruy6pacbw4
— وزارة الخارجية وشؤون المغتربين الأردنية (@ForeignMinistry) February 21, 2026
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسے بیانات خطے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں اور یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ وزارتوں نے واضح کیا کہ کسی بھی عرب ریاست کی خودمختاری یا سرحدی سالمیت پر سمجھوتہ قابل قبول نہیں ہے۔
اعلامیے میں زور دیا گیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے کی حیثیت بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت طے شدہ ہے۔ فریقین سے مطالبہ کیا گیا کہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں اور دو ریاستی حل کے اصول کی پاسداری کریں۔
اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، بحرین، ترکی، سعودی عرب، شام، عمان، فلسطین، قطر، کویت، لبنان اور مصر کی وزارت خارجہ نے مشترکہ طور پر یہ بیان جاری کیا ہے۔
بیان پر اسلامی تعاون تنظیم، عرب لیگ اور خلیجی تعاون کونسل نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ان تنظیموں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قانون اور متفقہ قراردادوں کا احترام ضروری ہے۔
حالیہ دنوں میں مغربی کنارے اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے بیانات اور سفارتی ردعمل میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد متعدد ممالک نے باضابطہ موقف جاری کیا ہے۔













