ملک میں سالانہ 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے، جس کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جاتا ہے، سوئی گیس حکام کا انکشاف۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
سوئی گیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں سالانہ 60 ارب روپے کی گیس چوری ہوتی ہے، جس میں 30 ارب روپے کا نقصان سوئی ناردرن اور 30 ارب روپے کا نقصان سوئی سدرن کو ہوتا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اوگرا کی حد تک نقصانات کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جاتا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی توانائی کے اجلاس میں گیس کے معاملات پر بحث ہوئی۔ ایم این اے گل اصغر خان نے کہا کہ صنعتی صارفین گیس چوری کرتے ہیں اور اس کا بوجھ گھریلو صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔
حکام نے مزید کہا کہ اوگرا کی مقررہ حد تک نقصانات صارفین پر ڈالے جاتے ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں گیس سیکٹر میں نقصانات کی شرح 6 فیصد تک ہوتی ہے۔ سوئی سدرن میں گیس چوری کی شرح 10 فیصد سے زائد ہے۔
اجلاس میں پیٹرولیم کمپنیوں کے انرجی ٹریننگ فنڈز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، جہاں سید نوید قمر نے فنڈز کے استعمال میں نااہلی پر تشویش کا اظہار کیا۔














