مزمل اسلم نے پنجاب حکومت کی طیارہ خریداری کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ 10 ارب روپے عوامی بھلائی پر خرچ ہوتے تو بہتر ہوتا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نےسینئر صحافی عامر متین کے 92 نیوز پر پروگرام مقابل میں بات کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی طیارہ خریداری کے فیصلے پر شدید تنقید کی۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان “شعور سے پیٹ نہیں بھرتا” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب سوال یہ ہے کہ کیا 10 ارب روپے کے جہاز سے پیٹ بھر جائے گا؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس جہاز سے واقعی پنجاب کی عوام کا بھلا ہو تو انہیں کوئی اعتراض نہیں، مگر موجودہ حالات میں ترجیحات اہم ہیں۔
مزمل اسلم نے کہا کہ ایک ایسی ایوی ایشن کمپنی جسے ابھی لائسنس نہیں ملا، اس نے پہلے ہی جہاز خرید لیا ہے۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جی 500 سیریز کے طیارے ایئر لائن بزنس کے لیے منظور نہیں ہوتے اور یہ عموماً وی آئی پی یا چارٹرڈ پروازوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
مزمل اسلم نے رمضان پیکج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 ہزار روپے فی مستحق پیکج دیا گیا جبکہ پنجاب میں 10 ہزار روپے دیے گئے۔ ان کے مطابق اگر 10 ارب روپے جہاز پر خرچ نہ کیے جاتے تو یہ رقم تقریباً 40 لاکھ افراد تک پہنچ سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس دن عوام کو براہِ راست فائدہ ملے گا، وہ تعریف بھی کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ایئر ایمبولینس، مختلف نمائشی منصوبوں، بسوں کی افتتاحی تقریبات اور دیگر اقدامات پر بھی اخراجات کیے گئے۔ ان کے مطابق ایک موقع پر 11 بسوں کی مالیت تقریباً 40 کروڑ روپے تھی جبکہ افتتاحی تقریب پر 8 سے 10 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔














