طیارہ خریداری کے معاملے پر مزمل اسلم نے قانونی تقاضوں اور مالی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کر لی۔
پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پنجاب حکومت کی طیارہ خریداری کے معاملے پر سوالات اٹھا دیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم نے قومی ایئرلائن کو 10 ارب روپے میں فروخت کیا جبکہ پنجاب حکومت نے ایک جہاز 11 ارب روپے میں خریدا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ کسی بھی سرکاری کمپنی کے قیام کے لیے ضروری مراحل میں فزیبلٹی، کابینہ منظوری، کمپنی کا اطلاق، ایس ای سی پی میں رجسٹریشن، سرمایہ کاری، سی ای او اور بورڈ کی تعیناتی، عملہ بھرتی اور پروکیورمنٹ قوانین پر عمل شامل ہوتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ تمام مراحل مکمل کیے ہیں۔
مزمل اسلم نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کی 64 ارب روپے کی مقروض ہے جو مری میں پانی کے بقایاجات سے متعلق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وسائل موجود تھے تو رمضان پیکج کی رقم 10 ہزار روپے کے بجائے 12,500 روپے کی جا سکتی تھی۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے طیارہ خریداری کے معاملے پر سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے جبکہ حکومتی نمائندگان اس اقدام کو ایئر پنجاب منصوبے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔














