مصنوعی ذہانت نے نوکریوں کے تحفظ کو چیلنج بنا دیا ہے، جس سے ‘ڈسپوزایبل ورکر سنڈروم’ پیدا ہو رہا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نوکری کو ہمیشہ زندگی کا مضبوط سہارا سمجھا جاتا تھا، لیکن اب کام کی دنیا میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت نے کام کے طریقوں کو بدل دیا ہے، جس کے نتیجے میں ‘ڈسپوزایبل ورکر سنڈروم’ کا نیا احساس جنم لے رہا ہے۔
یہ احساس نوکری ختم ہونے کے فوری خوف سے مختلف ہے، بلکہ یہاں انسان کی اہمیت کم ہونے کا خدشہ ہے۔ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ آج کے کام کو کل سافٹ ویئر یا مشین تیزی اور کم خرچ میں کر سکتی ہے۔ اس صورتحال کا سامنا خاص طور پر کیریئر کے درمیانی مرحلے کے افراد کر رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے کام کو آسان بنایا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ مشینیں زیادہ تر کام کر لیں تو انسان کا کردار کیا ہو گا؟ تجربہ اب کافی نہیں رہا، بلکہ سیکھنے کی رفتار زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کے بارے میں ہمارا تصور ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو مددگار کے طور پر دیکھا جائے تو یہ ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
ڈسپوزایبل ورکر سنڈروم ایک وارننگ بھی ہے اور موقع بھی کہ انسان خود کو تبدیلی کے لیے تیار کرے۔ انسان کی اصل طاقت اس کی سیکھنے کی صلاحیت ہے، جو اسے ہمیشہ اہم بنائے رکھ سکتی ہے۔















