پارلیمانی فورم نے نیپرا کی نیٹ میٹرنگ تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کیا، صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پارلیمانی فورم برائے توانائی و معیشت نے نیپرا کی جانب سے نیٹ میٹرنگ ضوابط میں حالیہ تبدیلیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ارکان نے زور دیا کہ صارفین کے حقوق اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اجلاس میں نیپرا کے منظور کردہ پروزیومر ریگولیشن 2026 کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ارکان نے ضابطے کی تیز رفتار منظوری اور محدود مشاورت پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ہزاروں صارفین پر مالی اور قانونی اثرات رکھنے والی اصلاحات میں وسیع مشاورت ہونی چاہیے۔
شیر علی ارباب نے کہا کہ چھتوں پر سولر نظام کی تیزی سے توسیع بجلی کی بلند قیمتوں اور گرڈ کی غیر یقینی فراہمی کے باعث ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صاف توانائی میں عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ریگولیٹری استحکام ضروری ہے۔
نیپرا کے ڈائریکٹر جنرل لائسنسنگ امتیاز حسین بلوچ نے وضاحت کی کہ نئے فریم ورک کا مقصد ریونیو ریکوری، لاگت کی منصفانہ تقسیم اور گرڈ کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ مالی شرائط میں تبدیلی سے متوسط طبقے کے صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔
پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے چیئرمین وقاص موسیٰ نے کہا کہ ترامیم سے سرمایہ واپسی کی مدت بڑھ سکتی ہے اور سولر اپنانے کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ نے زور دیا کہ بڑے ریگولیٹری فیصلوں سے قبل پارلیمانی نگرانی اور شفاف مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔













