قدیم دور میں رمضان کا چاند انسانی آنکھ سے دیکھا جاتا تھا، آج جدید ٹیکنالوجی استعمال ہوتی ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) رمضان کا آغاز اور اختتام ہمیشہ سے مسلمانوں کے لیے خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ قدیم دور میں چاند کی رویت کے لیے انسانی آنکھ پر انحصار کیا جاتا تھا۔ مختلف اسلامی ممالک میں رمضان کے چاند کی رویت کی تصدیق سرکاری ذرائع، مساجد اور مقامی مراکز کے ذریعے کی جاتی تھی۔
قدیم زمانے میں لوگ چاند دیکھنے کے لیے اونچے مقامات پر جمع ہوتے تھے اور چاند نظر آنے پر ڈھول بجا کر یا آگ جلا کر اعلان کرتے تھے۔ بعد میں توپ کے گولے یا بندوق سے فائر کر کے عوام کو چاند نظر آنے کی اطلاع دی جاتی تھی۔
عباسی خلافت کے دور میں مسلمانوں نے علم فلکیات میں کمال حاصل کیا اور چاند کی رویت کے لیے فلکیاتی آلات اور مشاہدے کا جامع نظام رائج کیا۔ مشہور مسلم سائنسدان الخوارزمی اور البتانی نے چاند کی رویت کے لیے ریاضیاتی معیار وضع کیے، جس سے چاند دیکھنے کا عمل منظم ہوگیا۔
آج کے جدید دور میں بھی چاند کی رویت کے لیے رصد گاہوں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اسلامی ممالک میں انسانی شہادت کو اب بھی ترجیح دی جاتی ہے۔















