ایس جی ایس کوٹیکنا کیس میں آصف علی زرداری کو پہلے قومی مفاہمتی آرڈیننس اور بعد ازاں شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر بریت ملی۔ 2007 میں احتساب عدالت نے این آر او کے تحت ریلیف دیا جبکہ 2015 میں نیب عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ مکمل اور اصل دستاویزات پیش نہیں کر سکا۔
راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری کو ایس جی ایس کوٹیکنا کیس میں قومی مفاہمتی آرڈیننس اور شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر بری کیا گیا۔
2007 میں راولپنڈی کی احتساب عدالت نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کے تحت زرداری کو بریت کا حکم دیا، جس میں نیب نے ریفرنس کو آرڈیننس کے دائرہ کار میں قرار دیا۔
قومی مفاہمتی آرڈیننس 2007 میں پرویز مشرف کی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کے تحت جاری ہوا، جس میں سیاسی مقدمات واپس لیے گئے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے 2009 میں آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا۔
نومبر 2015 میں اسلام آباد کی نیب عدالت نے بھی شواہد کی کمی کی بنیاد پر زرداری کو بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ مکمل دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہا۔
قبل ازیں، سوئٹزرلینڈ میں اسی معاملے سے متعلق کارروائی کے دوران 2003 میں جنیوا کے تفتیشی جج ڈینیئل ڈی واؤڈ نے ایک ابتدائی حکم میں آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے میں سزا سنائی تھی۔ یہ فیصلہ حتمی نہیں تھا اور اسے اپیل کے مراحل سے گزرنا تھا۔ 2007 میں قومی مفاہمتی آرڈیننس کے اجرا کے بعد پاکستان کی حکومت نے سوئس حکام کو خط لکھ کر مقدمے کی پیروی جاری نہ رکھنے کا مؤقف اختیار کیا، کیونکہ ایسے معاملات میں متاثرہ ریاست کی معاونت اہم سمجھی جاتی ہے۔
بعد ازاں 2009 میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو کالعدم قرار دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ سوئس حکام کو دوبارہ خط لکھ کر مقدمات کی پیروی بحال کی جائے۔ اس عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کے معاملے پر اس وقت کے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی کو توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑاتھا۔
نومبر 2015 میں اسلام آباد کی نیب عدالت نے بھی شواہد کی کمی کی بنیاد پر زرداری کو بری کر دیا۔ اس وقت ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور وزیرِاعظم میاں نواز شریف تھے۔ عدالتی کارروائی کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل ریکارڈ احتساب بینچ کی تحویل سے غائب ہو چکا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دستیاب مواد فوٹو کاپیوں پر مشتمل تھا اور اصل دستاویزات پیش نہیں کی جا سکیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ نامکمل اور غیر مصدقہ ریکارڈ کی بنیاد پر فوجداری مقدمہ جاری نہیں رکھا جا سکتا۔
نومبر 2015 میں اسلام آباد کی نیب عدالت نے بھی شواہد کی کمی کی بنیاد پر زرداری کو بری کر دیا۔ اس وقت ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی اور وزیرِاعظم میاں نواز شریف تھے۔ عدالتی کارروائی کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اصل ریکارڈ احتساب بینچ کی تحویل سے غائب ہو چکا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ دستیاب مواد فوٹو کاپیوں پر مشتمل تھا اور اصل دستاویزات پیش نہیں کی جا سکیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ نامکمل اور غیر مصدقہ ریکارڈ کی بنیاد پر فوجداری مقدمہ جاری نہیں رکھا جا سکتا۔
ایس جی ایس اور کوٹیکنا یورپی کمپنیاں تھیں جنہیں پری شپمنٹ انسپیکشن کے ٹھیکے دیے گئے تھے اور کمیشن کے الزامات پرآصف زرداری، بینظیر بھٹو اور سات دیگر افراد کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔














