بنگلہ دیش میں جولائی چارٹر کی 70 فیصد عوامی حمایت نے ملک کی سیاست کا رخ موڑ دیا ہے، جس میں طارق رحمان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
ڈھاکہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے عام انتخابات اور قومی ریفرنڈم نے ملک کی سیاست کا رخ بدل دیا ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے اتحاد نے 210 نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے طارق رحمان کو ملک کا نیا وزیراعظم بنانے کی راہ ہموار کی ہے۔
انتخابات کے ساتھ جولائی چارٹر پر قومی ریفرنڈم بھی کروایا گیا، جس کے نتائج کے مطابق 70 فیصد بنگلہ دیشیوں نے اس اصلاحاتی پیکج کی حمایت کی ہے۔ چارٹر کو 2024 میں طالب علموں کی تحریک کے بعد تیار کیا گیا تھا، جس کا مقصد ملک کے حکومتی نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہے۔
چارٹر میں 84 نکات شامل ہیں، جن میں 47 کے لیے آئین میں تبدیلی اور 37 قوانین کے ذریعے لاگو کیے جائیں گے۔ اس کا مقصد حکومتی نظام کو مضبوط اور متوازن بنانا ہے، جس میں نئی ایوان کا قیام اور صدر کے اختیارات میں اضافہ شامل ہے۔
چارٹر میں عدلیہ کی آزادی، پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے اور اپوزیشن لیڈروں کو اہم کمیٹیوں کا سربراہ بنانے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں تیسرا بڑا اصلاحاتی چارٹر ہے۔















