جماعت اسلامی بنگلا دیش نے انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہوئے تعمیری سیاست کی یقین دہانی کرائی جبکہ بی این پی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔
ڈھاکہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) جماعت اسلامی بنگلا دیش نے عام انتخابات میں اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔ جماعت کے امیر شفیق الرحمان نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کریں گے بلکہ تعمیری سیاست کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد جماعت اپنا حتمی موقف پیش کرے گی جو مثبت ہوگا۔
بنگلا دیش کے ان تاریخی انتخابات میں بنگلا دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے 212 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ جماعت اسلامی کے اتحاد کو 77 نشستیں ملیں جبکہ ان کی اتحادی نیشنل سٹیزن پارٹی نے پانچ نشستیں جیتیں۔
الیکشن کمیشن نے مبینہ دھاندلی اور بد انتظامی کے الزامات کے تحت 3 حلقوں کے نتائج روک دیے ہیں۔ بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے اتحادیوں کے ساتھ نئی حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے اور کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن عامہ کو اولین ترجیح دیں اور ریلیوں یا جشن سے گریز کریں۔















