بچوں کے جنسی استحصال کے خطرے سے بچاؤ کے لیے والدین کو گرومنگ کے عمل کا فہم ہونا ضروری ہے اور انہیں بچوں سے کھل کر بات کرنی چاہیے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بچوں کا جنسی استحصال ایک سنگین جرم ہے جو ان کی جسمانی و ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ اس جرم کا ارتکاب اکثر قریبی رشتہ داروں اور جاننے والوں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بچے خوف و شرمندگی کے باعث خاموش رہتے ہیں۔
فرانس میں ایک سابق استاد پر 89 بچوں کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات نے یہ واضح کیا ہے کہ خطرہ انجان افراد سے نہیں بلکہ قریبی لوگوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ گرومنگ کے ذریعے بالغ افراد بچوں کو اعتماد میں لے کر ان کا استحصال کرتے ہیں۔
گرومنگ کا عمل بچوں کو اعتماد میں لے کر آہستہ آہستہ ان کی جذباتی و جسمانی حدود کو کراس کرنے کا ہوتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں اور انہیں جسمانی خودمختاری کے متعلق آگاہ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اکثر بدسلوکی کرنے والا شخص خود کو قابل اعتماد ظاہر کر کے بچے اور اس کے خاندان کا اعتماد جیت لیتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک رویے پر فوری اقدام کریں۔















