نیٹ میٹرنگ یا نیٹ بلنگ؟بجلی کے بلوں میں کس دور حکومت میں کتنا ٹیکس عائد کیا گیا؟

حکومت کی نیٹ میٹرنگ نرخوں میں کمی کی تجویز پر عوامی بحث جاری ہے، جس سے بجلی کے بڑھتے نرخوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
نیٹ میٹرنگ یا نیٹ بلنگ؟بجلی کے بلوں میں کس دور حکومت میں کتنا ٹیکس عائد کیا گیا؟

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کے نرخ کم کرنے کی تجویز پر عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز صارفین کے لیے بجلی کے بڑھتے نرخوں کا بوجھ مزید بڑھا سکتی ہے، جو پہلے ہی 20 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 60 سے 70 روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات روپے کی قدر میں کمی اور درآمدی ایندھن پر انحصار ہیں، جبکہ انتظامی کمزوریاں اور گردشی قرضے میں اضافہ بھی اہم عوامل میں شامل ہیں۔ گردشی قرضہ 2007 میں 30 ارب روپے سے بڑھ کر 2024 تک 2 کھرب روپے سے تجاوز کر گیا۔ ان اخراجات کو مرحلہ وار صارفین کے بلوں میں شامل کیا گیا۔

 زیادہ تر بجلی منصوبوں کی ادائیگیاں ڈالر سے منسلک ہونے کے باعث روپے کی قدر میں کمی کا براہ راست اثر بلوں پر پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی کے شعبے میں انتظامی کمزوریوں اور گردشی قرضے میں اضافے نے بھی نرخ بڑھانے میں کردار ادا کیا۔

2014 میں گردشی قرضے پر سود کی ادائیگیاں بلوں کا حصہ بنیں۔ 2016 میں سی پیک سکیورٹی کے اخراجات کو بھی قابل انتقال مد میں شامل کیا گیا۔ 2023 میں نیٹ میٹرنگ سے حاصل آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس کا اطلاق کیا گیا۔ ان اقدامات کے باعث صارفین کے لیے بجلی کے اخراجات مزید بڑھ گئے۔

2022 اور 2023 میں روپے کی قدر میں نمایاں کمی کے بعد بجلی کے بلوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ اسی دوران گھریلو سطح پر سولر نظام کی تنصیب میں اضافہ ہوا۔ 2020 کے بعد ملک میں سولر اپنانے کی رفتار میں نمایاں تیزی آئی اور متعدد صارفین نے گرڈ پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی۔

ماہرین کے مطابق اب بیٹری نظام کی دستیابی کے بعد شمسی توانائی کے استعمال میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر گرڈ بجلی مہنگی رہے اور خریداری نرخ کم ہوں تو صارفین متبادل ذرائع کی جانب جا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ حکومت نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظرثانی کے عمل سے گزر رہی ہے جبکہ توانائی شعبے کی اصلاحات پر بھی غور جاری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی کا استعمال بڑھ رہا ہے اور اگر گرڈ بجلی مہنگی رہی تو صارفین متبادل ذرائع کی طرف جا سکتے ہیں۔ حکومت نیٹ میٹرنگ پالیسی اور توانائی شعبے کی اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں