نیپرا کے نیٹ بلنگ نظام پر سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جسے شمسی توانائی کے فروغ اور بجلی شعبے کی خرابیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے نیٹ میٹرنگ نظام کی جگہ نیٹ بلنگ فریم ورک کے نفاذ پر سیاسی رہنماؤں اور توانائی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی شمسی توانائی کے فروغ کو متاثر کرے گی اور بجلی کے شعبے کی بنیادی خرابیوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔
سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے حکومت پر بجلی کے مسائل کے حل میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صارفین سے اضافی قیمت وصول کرنا حکومتی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے مترادف ہے۔
Nepra’s decision to terminate net metering system
Brilliantly summarised by Asad Ali Shah. This government continues to prove it has no solutions to our economic challenges especially power sector. Why should people pay extra just because this government is inefficient,… https://t.co/DQb3NvmhMh— Mohammad Zubair (@Real_MZubair) February 10, 2026
پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ نئے ضوابط موسمیاتی اہداف سے متصادم ہیں اور صاف توانائی پیدا کرنے والے شہریوں کو سزا دیتے ہیں۔
The new prosumer rules issued by @NEPRA, will not only slow down the country’s #energytransition and contradict Pakistan’s #climate commitments, it will, quite literally, punish citizens for producing clean, affordable energy. And for investing in solarisation by trusting the… pic.twitter.com/6OQRSDbUFC
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) February 10, 2026
تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے خبردار کیا کہ صارفین بیٹری بیسڈ سولر نظام اپنانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صارفین بجلی خریدنے پر 40 روپے فی یونٹ ادا کریں
گے جبکہ اضافی شمسی بجلی کے بدلے انہیں 11 روپے فی یونٹ ملیں گے۔
No better illustration of the cowardice & illegitimacy of the govt.
Can’t sell the decision to end net-metering to the public, so get NEPRA to front the decision. Fools no one.
All this will do is increase battery adoption and get more people off-grid.https://t.co/bmq9EYNyVs— Taimur Saleem Khan Jhagra (@Jhagra) February 10, 2026
سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نئے نظام میں واضح نرخوں کا فرق رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق صارفین تقریباً 40 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدیں گے، لیکن اضافی سولر بجلی دینے پر انہیں صرف تقریباً 11 روپے فی یونٹ ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ریاست کو فائدہ ہوگا مگر عام شہری کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔
Congratulations to the federal govt for winning against the people.
NEPRA has notified Net Billing. Now the govt will sell consumers electricity for Rs 40 per unit but buy back for Rs 11
FBR adds 18% sales tax on Rs 40 but will deduct it from your Rs 11. https://t.co/izYwh4vD3y
— Miftah Ismail (@MiftahIsmail) February 10, 2026
توانائی ماہرین نے کہا کہ نئے ضوابط کے تحت یوٹیلٹیز اضافی بجلی قومی اوسط نرخ پر خریدیں گی اور معاہدے کی مدت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی گئی ہے۔ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صارفین اپنے معاہدوں کی مدت پوری ہونے تک پرانے نظام کے تحت رہیں گے۔
سابق وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں پالیسی بار بار بدلی جا رہی ہے اور بعض فیصلے ماضی سے بھی لاگو کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب حکومت پہلے کیے گئے معاہدوں یا وعدوں کو بدل دیتی ہے تو لوگوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے لوگ گرڈ سے ہٹ کر اپنا الگ سولر نظام لگانے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے قومی گرڈ کمزور پڑ سکتا ہے۔
The best marketing for battery based off grid solar is being done by the national grid itself in Pakistan.
Confused, chaotic and retroactive policies are hardly a plan to save the grid from irrelevance.
Last year we saw fixed energy costs for industries being tripled. Blunder.— Hammad Azhar (@Hammad_Azhar) February 10, 2026
ناقدین نے اس فیصلے کو صارفین کے اعتماد اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے، جبکہ نیپرا کے مطابق یہ اقدام گرڈ کے استحکام اور مجموعی عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے۔















