لاہور میں پتنگ بازی کے باعث کیمیائی ڈور پرندوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہے، ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز)ماہرین حیاتیات اور جنگلی حیات کے تحفظ سے وابستہ ادارے لاہور میں پتنگ بازی کے باعث پرندوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خطرہ خود پتنگوں سے نہیں بلکہ کیمیائی مادوں سے لیس خطرناک ڈور سے پیدا ہو رہا ہے، جو شہر کے پرندوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے شعبۂ حیاتیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے بتایا کہ بسنت اور دیگر تہواروں کے دوران پتنگ بازی میں اضافہ ہونے سے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ 2001 میں فیروزپور روڈ پر ہونے والی تحقیق میں ایک ہی دن میں 187 پرندے زخمی اور 27 ہلاک ریکارڈ کیے گئے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بسنت کا موسم پرندوں کی ہجرت کے اہم دور سے مطابقت رکھتا ہے، جس سے حادثات کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ لاہور دریائے سندھ کے فلائی وے کے نیچے واقع ہے، جو مہاجر پرندوں کا بڑا فضائی راستہ ہے۔
ڈاکٹر ذوالفقار علی کے مطابق شکاری پرندے، آبی پرندے اور چھوٹے گیت گانے والے پرندے پتنگوں کی ڈور سے شدید متاثر ہوتے ہیں۔ تیز مانجھا ان کے گوشت، پٹھوں اور ہڈیوں کو کاٹ دیتا ہے، جس سے پرندے زخموں اور دیگر مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔
ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کیمیائی ڈور کی تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی پر سختی سے عمل کیا جائے اور محفوظ سوتی ڈور کے استعمال کو فروغ دیا جائے تاکہ جنگلی حیات کو بچایا جا سکے۔















