لاہور میں دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی کے ساتھ، پنجاب حکومت نے محدود مدت اور سخت ضابطوں کے تحت جشن کی اجازت دی ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز)لاہور میں تقریباً دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی ہو رہی ہے، جہاں پنجاب حکومت نے سخت ضابطوں کے تحت محدود مدت کے لیے اس تہوار کی اجازت دی ہے۔ اس اقدام سے شہر میں گہماگہمی بڑھ گئی ہے،جین زی سے تعلق رکھنے والی نوجوان نسل پہلی بار اس تہوار کومنائے گی جبکہ بزرگ شہری ماضی کی یادیں تازہ کریں گے۔
بسنت کے ساتھ ہی معاشی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں، پتنگوں کی قیمتیں دگنی ہو چکی ہیں اور ڈورکے پنے مہنگے ہو گئے ہیں۔ چرخّی پر پابندی ہے اور مخصوص ڈور کی اجازت ہے۔ شہر میں چھتوں کے کرائے بھی بڑھ گئے ہیں، جبکہ بڑے ہوٹل بک ہو چکے ہیں۔
پنجاب حکومت نے حفاظتی اقدامات نافذ کیے ہیں، غیرقانونی پتنگ بازی پر سخت جرمانے اور قید کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ پولیس اور دیگر ادارے نگرانی کریں گے، موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈ لازمی ہے اور بائیکس کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت دی جا رہی ہے۔
راولپنڈی اور دیگر شہروں میں بسنت پر پابندی برقرار ہے، شہریوں میں احساسِ محرومی پایا جاتا ہے۔ راولپنڈی کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہر میں بسنت منانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
بسنت کی بحالی سے ثقافتی سرگرمیوں، سیاحت اور مقامی معیشت میں بہتری آئی ہے، تاہم تہوار کے بعد پتنگوں اور ڈور کے مستقبل پر سوالات موجود ہیں۔















