ملازم کو شادی کے دن کام کرنے پر مجبور کیا گیا، سوشل میڈیا پر اعتراض کیا۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایک ملازم نے سوشل میڈیا پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا جس میں اس کے باس نے اسے شادی کے دن کام کرنے پر مجبور کیا۔ ملازم نے بتایا کہ دفتر میں ہر کام کو اہم قرار دیا جاتا ہے، لیکن کوئی واضح رہنمائی نہیں ہوتی اور مائیکرو مینجمنٹ معمول بن چکی ہے۔
ملازم نے کہا کہ اس نے شادی کے بارے میں دو ماہ قبل ہی اطلاع دی تھی، مگر پروجیکٹ لیڈرز نے نظرانداز کیا اور ویک اینڈ پر بھی کام کرنے کی توقع کی۔ سینئر پروجیکٹ مینیجر نے کہا کہ "شادی ایمرجنسی نہیں ہے”۔
اس صورتحال نے ملازم کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ اسے مارچ میں پروجیکٹ سے ریلیز ہونا ہے اور شادی کو موخر نہیں کیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے اس صورتحال پر دلچسپی دکھائی اور مختلف رائے کا اظہار کیا۔
کچھ صارفین نے مشورہ دیا کہ مالی حالات اجازت دیں تو کچھ وقت کے لیے ملازمت سے وقفہ لے لیا جائے۔ اس طرح کے مسائل دفتر کے کلچر اور کام کے دباؤ پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں، اور ملازمین کو اپنے حقوق کا علم ہونا ضروری ہے۔















