2030 تک کون سی نوکریاں ختم ہوں گی اور کن شعبوں میں روزگار بڑھے گا؟

ڈیجیٹل تبدیلی سے روزگار کا نقشہ بدل رہا ہے، 2030 تک نئی نوکریاں بنیں گی اور کئی روایتی پیشے ختم ہوں گے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
2030 تک کون سی نوکریاں ختم ہوں گی اور کون سی بڑھیں گی؟

دنیا: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے تیز رفتار پھیلاؤ نے عالمی لیبر مارکیٹ کو بدل دیا ہے، جہاں نئی نوکریاں پیدا ہو رہی ہیں وہیں کئی روایتی پیشے ختم ہونے کے قریب ہیں۔ 2025 کے اختتام تک یہ رجحان مزید واضح ہو چکا ہے اور 2030 تک روزگار کا نقشہ نمایاں طور پر تبدیل ہو جائے گا۔

عالمی معاشی جائزوں کے مطابق بگ ڈیٹا ماہرین، فِن ٹیک انجینئرز، مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کے ماہرین، سافٹ ویئر ڈویلپرز اور سائبر سکیورٹی میں روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ ڈی اوپس انجینئرز، ڈیٹا اینالسٹس، انٹرنیٹ آف تھنگز، الیکٹرک اور خودکار گاڑیوں کے ماہرین اور قابل تجدید توانائی سے وابستہ پیشے اہمیت اختیار کریں گے۔

اس کے برعکس ڈاک خانوں کے کلرکس، بینک ٹیلرز، ڈیٹا انٹری آپریٹرز، کیشیئرز، اکاؤنٹنگ اور پے رول کلرکس، انتظامی معاونین اور ٹیلی مارکیٹرز جیسی نوکریاں کم ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق آٹومیشن، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام ان روایتی کرداروں کی جگہ لے رہے ہیں۔

عالمی سطح پر ابتدائی درجے کی نوکریاں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ 2024 کے بعد ان آسامیوں میں تقریباً 29 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کئی ممالک میں نوجوانوں کی بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ یہ صورتحال صرف ٹیکنالوجی کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی معاشی سست روی، تجارتی غیر یقینی اور بھرتیوں میں احتیاط کا نتیجہ بھی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی فیوچر آف جابز رپورٹ 2025 کے مطابق 41 فیصد ادارے مصنوعی ذہانت سے متاثرہ کرداروں میں افرادی قوت کم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم 70 فیصد ادارے نئی اے آئی مہارتوں کے حامل افراد کو بھرتی کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہے ہیں۔ رپورٹ میں 2030 تک مجموعی طور پر 7 کروڑ 80 لاکھ نئی ملازمتوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، اگرچہ موجودہ نوکریوں میں سے 22 فیصد ساختی تبدیلی سے گزریں گی۔

ماہرین کے مطابق کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنیکل مہارتوں پر نہیں بلکہ قیادت، لچک، مسلسل سیکھنے اور انسانی و ٹیکنالوجی اشتراک پر ہو گا، جو بدلتی عالمی معیشت میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

دیگر متعلقہ خبریں