مصنوعی ذہانت اور جغرافیائی سیاست سے سائبر خطرات میں اضافہ

عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت اور جغرافیائی سیاست نے سائبر خطرات کو تیز کر دیا ہے، جس سے 2026 میں سائبر سیکیورٹی کو نئے چیلنجز کا سامنا رہے گا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
مصنوعی ذہانت اور جغرافیائی سیاست سے سائبر خطرات میں اضافہ

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت، جغرافیائی سیاسی تقسیم اور سائبر فراڈ میں تیزی سے اضافے نے عالمی سطح پر سائبر خطرات کے منظرنامے کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ پیر کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، 2026 میں سائبر سیکیورٹی کو بڑھتے ہوئے خطرات، جغرافیائی تقسیم اور ٹیکنالوجی کے بڑھتے فرق کا سامنا رہے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ادارے جدت اور تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کو وسیع پیمانے پر اپنا رہے ہیں، تاہم گورننس کے نظام اور انسانی مہارتیں اس رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہو پا رہیں۔ اس کے نتیجے میں سائبر خطرات کی ایسی فضا تشکیل پا رہی ہے جو سرحدوں سے ماورا تیزی سے پھیلتی ہے۔

ڈبلیو ای ایف کے مطابق 2026 میں جغرافیائی سیاست سائبر رسک مینجمنٹ پر سب سے بڑا اثر ڈالنے والا عنصر رہے گی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 64 فیصد ادارے جغرافیائی بنیادوں پر ہونے والے سائبر حملوں کو اپنی حکمت عملی میں شامل کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سپلائی چین بھی سائبر خطرات کے حوالے سے ایک بڑا کمزور پہلو بنی ہوئی ہے۔ بڑی کمپنیوں میں سے 65 فیصد نے تیسرے فریق اور سپلائی چین سے جڑے خطرات کو اپنی سائبر مزاحمت میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔

ڈبلیو ای ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر جیرمی جرگنز نے کہا کہ جیسے جیسے سائبر خطرات باہم جڑتے جا رہے ہیں، آن لائن فراڈ ڈیجیٹل معیشت کے لیے ایک بڑا خلل ڈالنے والا عنصر بن چکا ہے، جو عوام کے اعتماد کو متاثر کر رہا ہے اور براہ راست لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں