ایف آئی اے نے ڈریپ کو ادویات کی قیمتوں اور فہرست سازی پر انکوائری نوٹس جاری کیا، ڈریپ ایکٹ 2012 کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو ادویات کی قیمتوں کے تعین اور فہرست سازی سے متعلق انکوائری نوٹس جاری کر دیا ہے۔ انکوائری ڈریپ ایکٹ 2012 کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تناظر میں شروع کی گئی ہے۔
نوٹس میں ڈریپ سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ کن اختیارات کے تحت ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ یا ڈی کنٹرول کیا گیا اور یہ اقدامات ڈریپ ایکٹ 2012 کی شقوں سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ادویات کی فہرست سازی، قیمتوں کے تعین اور متعلقہ تکنیکی کمیٹیوں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ایف آئی اے نے ادویات کی قیمتوں کے تعین میں ٹیسٹنگ سہولیات، ایچ او ٹی سی اور ایم ڈی ایم ادویات کو الگ الگ نہ رکھنے پر بھی وضاحت مانگی ہے۔ شفافیت انٹرنیشنل کے الزامات اور بعض ادویات کے کمبی نیشنز کو فہرست میں شامل نہ کرنے کے معاملے پر بھی جواب طلب کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے نوٹس میں متعدد ادویات کے نام بھی واضح طور پر درج کرتے ہوئے یہ دریافت کیا ہے کہ آیا یہ ادویات لائف سیونگ کے زمرے میں شامل ہیں یا نہیں۔ ان ادویات میں اومپرازول 20 ملی گرام کیپسول، مونٹیلوکاسٹ 10 ملی گرام گولیاں، ایس سٹالوپرام 10 ملی گرام گولیاں، پریگابیلن 75 ملی گرام کیپسول، ایٹورواسٹیٹن 20 ملی گرام گولیاں، سیفٹریکسون 1 گرام انجیکشن، ٹوبرامائسن اور ڈیکسامیتھاسون آئی ڈراپس، لوسارٹن پوٹاشیم 50 ملی گرام، فلوکونازول 150 ملی گرام کیپسول، گلیمپیرائیڈ 2 ملی گرام گولیاں، موکسی فلوکساسین 400 ملی گرام انجیکشن اور اومپرازول 40 ملی گرام انجیکشن شامل ہیں۔
ڈریپ سے پاکستان نیشنل فارمولری کی سرکاری گزٹ، غیر ملکی مشیروں اور ملازمین کی تفصیلات، فارما کمپنیوں اور اے پی آئی مینوفیکچررز کی فہرست بھی طلب کی گئی ہے۔ 2012 کے بعد ادویات کی درآمدات اور برآمدات کا ریکارڈ بھی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔















