کالج کے دنوں میں خود کو آزاد محسوس کیا، ملالہ یوسفزئی کا اعتراف

ملالہ یوسفزئی نے اپنی ذاتی زندگی، تعلیمی سفر اور لڑکیوں کی تعلیم پر تفصیل سے بات کی، اور اپنی یادداشت میں ذہنی صحت اور شناخت کی تلاش پر کھل کر گفتگو کی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ملالہ یوسفزئی کا نیا انٹرویو، ذاتی زندگی، تعلیم اور شناخت پر گفتگو

لندن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)میں نےپڑھائی، نیند اور سماجی زندگی میں سے سماجی زندگی کو ترجیح دی۔ملالہ یوسفزئی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا ہے کہ دوستوں کے ساتھ گزارے گئے لمحات ان کے لیے قیمتی تھے، اور یہی وہ وقت تھا جب انہوں نے پہلی بار خود کو زیادہ آزاد محسوس کیا اور بغیر خوف اپنی بات کہنے کا حوصلہ پیدا کیا۔

لندن میں ایک نئے انٹرویو کے دوران ملالہ یوسفزئی نے اپنی ذاتی زندگی، تعلیمی سفر اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے جاری جدوجہد پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں میں ان کی زندگی میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔ وہ کالج سے گریجویشن مکمل کر چکی ہیں، شادی ہو چکی ہے، لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کے کھیلوں سے متعلق سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور اپنی ایک نئی یادداشت بھی شائع کر چکی ہیں۔

ملالہ نے اپنی یادداشت کے حوالے سے کہا کہ کم عمری میں نوبل امن انعام یافتہ اور تعلیمی کارکن کے طور پر پہچانے جانے کے بعد انہیں محسوس ہوتا تھا کہ انہیں ایک مثالی زندگی گزارنی ہوگی، جہاں غلطیوں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ ان کے مطابق وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ یہ تصور ان کی اصل شناخت کی مکمل نمائندگی نہیں کرتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ برطانیہ میں تعلیم کے دوران ہائی اسکول میں انہیں دوست بنانے میں مشکلات پیش آئیں، جس کے باعث کالج میں انہوں نے شعوری طور پر مختلف انداز اپنانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملنا اور دوستیوں کو فروغ دینا تھا تاکہ تنہائی کے احساس سے نکل سکیں۔

اسی سوچ کے تحت ملالہ نے مختلف سوسائٹیوں میں شمولیت اختیار کی، جن میں پاکستان سوسائٹی، کرسچن سوسائٹی، ہندو سوسائٹی اور مسلم سوسائٹی شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حلقوں میں شامل ہو کر انہیں ایسے لوگ ملے جن سے بامعنی تعلقات قائم ہوئے۔

واضح رہے کہ ملالہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ ان کی زندگی کے یہ تمام تجربات ان کی یادداشت کا اہم حصہ ہیں، جہاں وہ ذہنی صحت، دوستیوں اور اپنی شناخت کی تلاش پر کھل کر بات کرتی ہیں، اور ساتھ ہی دنیا بھر کی ان لڑکیوں کے لیے آواز بلند کرنے کے عزم کا اعادہ کرتی ہیں جنہیں مساوی تعلیمی مواقع حاصل نہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں