حماس نے غزہ میں حکمرانی سے دستبرداری کا اعلان کیا اور ٹیکنوکریٹک حکومت پر اتفاق کیا۔ اسرائیل رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔
غزہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم غزہ میں حکمرانی نہیں چاہتی اور ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام پر متفق ہے۔ تمام مجوزہ ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے نام منظور ہو چکے ہیں، تاہم اسرائیل اس سیٹ اپ کے عمل درآمد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔
العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے عہدیدار نے بتایا کہ غزہ کی آئندہ حکمرانی ایک ٹیکنوکریٹ ٹیم کو سونپنے پر اصولی اتفاق ہوا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ حالانکہ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، اسرائیل زمینی اقدامات کی تکمیل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
حماس کے رہنما نے کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کا کردار صرف جنگ بندی کی نگرانی تک محدود ہوگا اور وہ انتظامی معاملات یا داخلی حکمرانی میں شامل نہیں ہوگی۔ اس فورس کا مقصد فریقین کو الگ رکھ کر دوبارہ جھڑپوں کو روکنا ہوگا۔
دونوں فریقین کے درمیان امریکی ثالثی میں ہونے والا سیزفائر معاہدہ 10 اکتوبر سے نافذ ہے، جس نے دو سال سے جاری جنگ کو روکا ہے۔ فریقین ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے رہے ہیں۔















