لاہور ہائیکورٹ نے کاروباری شراکت داری کے تنازع کو فوجداری نہیں بلکہ سول نوعیت کا معاملہ قرار دے دیا۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے کاروباری شراکت داری کے تنازع کو فوجداری نہیں بلکہ سول نوعیت کا معاملہ قرار دے دیا ہے۔ جسٹس طارق سلیم شیخ نے شہری مبین احمد کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کاروباری جھگڑے کی بنیاد پر درج مقدمہ کالعدم قرار دیا۔
عدالت نے کہا کہ شراکت داری میں کسی فرد کو مشترکہ ملکیت پر امانت میں خیانت کا مرتکب نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہ تنازع فوجداری نہیں بلکہ سول عدالت میں حل کیا جا سکتا ہے۔
فیصلے کے مطابق مدعی پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں جو ریٹائرڈ یو ایس آرمی سروس مین ہیں اور فارمیسی کا کاروبار کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا تھا کہ درخواست گزار نے بطور سیلز مینیجر بھاری مالی خردبرد کی اور آڈٹ میں پانچ کروڑ روپے کی ادویات غائب پائی گئیں۔
درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ وہ کمپنی کا پارٹنر ہے نہ کہ ملازم، اور اس نے شراکت داری کے تحت 5 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جسٹس آف پیس کا مقدمہ درج کرنے کا حکم قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا، اس لیے ایف آئی آر کے حکم کو غیر مؤثر قرار دیا گیا۔














