پاکستان کا رفح کراسنگ سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے اسرائیلی بیان پر شدید تشویش کا اظہار

پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی مخالفت کی اور امریکہ کے مجوزہ امن منصوبے کی حمایت کی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے رفح کراسنگ کی یک طرفہ کھولنے کی اسرائیلی بیان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کا مقصد غزہ کے رہائشیوں کو مصر منتقل کرنا ہے۔ وزراء نے فلسطینی عوام کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مکمل مخالفت کا اعادہ کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ منصوبے کی مکمل پابندی کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس میں دونوں سمتوں میں رفح کراسنگ کھلی رکھنے، آبادی کی آزادانہ نقل و حرکت کو یقینی بنانے اور غزہ کے رہائشیوں کو چھوڑنے پر مجبور نہ کرنے کی ضرورت شامل ہے۔

وزراء نے صدر ٹرمپ کے خطے میں امن قائم کرنے کے عزم کی تعریف کی اور منصوبے کے مکمل نفاذ کی اہمیت پر زور دیا ہے تاکہ سیکورٹی، امن اور علاقائی استحکام کی بنیادوں کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے جنگ بندی کو مکمل طور پر برقرار رکھنے، شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے، غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ داخلے کو یقینی بنانے، ابتدائی بحالی اور تعمیر نو کی کوششوں کا آغاز کرنے اور فلسطینی اتھارٹی کے ذمہ داریوں کی بحالی کے لئے سازگار حالات پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔

وزراء نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے ممالک امریکہ اور متعلقہ علاقائی و بین الاقوامی فریقین کے ساتھ کام اور ہم آہنگی جاری رکھنے کے لئے تیار ہیں تاکہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 اور تمام متعلقہ قراردادوں کا مکمل نفاذ یقینی بنایا جا سکے اور بین الاقوامی قانونی حیثیت کے مطابق دو ریاستی حل کے ذریعے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لئے موزوں حالات فراہم کیے جا سکیں۔

دیگر متعلقہ خبریں