این سی سی آئی اے افسران پر رشوت کا الزام عائد، ڈی جی سینیٹ کمیٹی میں طلب

این سی سی آئی اے افسران پر رشوت کے الزام پر سینیٹ کمیٹی نے ڈی جی کو طلب کیا۔ موبائل ڈیٹا، ناقص نیٹ ورک اور صارفین کے حقوق پر بریفنگ طلب

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) این سی سی آئی اے افسران پر غیر قانونی کال سینٹرز سے ماہانہ ڈیڑھ کروڑ روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، جس پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو طلب کر لیا۔

قائمہ کمیٹی نے موبائل ڈیٹا اور کال پیکجز میں اضافے پر بریفنگ طلب کی ہے اور ڈی جی این سی سی آئی اے سے مبینہ کرپشن کے معاملے پر کارروائی کی رپورٹ مانگ لی ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام سے بھی موبائل ڈیٹا اور کال پیکجز پر بریفنگ طلب کی گئی ہے۔

مزید برآں، موبائل فون صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لئے کیے گئے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا، اور ضلع لکی مروت میں موبائل سروس کی بندش پر تفصیلی بریفنگ طلب کی گئی ہے۔ آئی سی ٹی ہاؤس ہولڈ سروے ایپ کے ذریعے جمع کردہ ڈیٹا کی حفاظت کے متعلق وزارت داخلہ سے جواب طلب کیا گیا ہے۔

سینیٹ کمیٹی نے ای۔ٹیگز وہیکل مانیٹرنگ سسٹم کے ڈیٹا کے متعلق سوالات اٹھائے ہیں اور پی ٹی سی ایل کے آخری آڈٹ اور یوفون بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔

وی پی این لائسنسنگ کے طریقہ کار پر چیئرمین پی ٹی اے کی بریفنگ طلب کر لی گئی ہے اور کمپنیوں کے لئے مستقبل میں وی پی این لائسنس لینے کے طریقہ کار کو واضح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں، مختلف علاقوں میں ناقص موبائل نیٹ ورک پر یو ایس ایف سی ای او سے پیش رفت رپورٹ طلب کی گئی ہے اور سینیٹرز کی جانب سے اٹھائے گئے موبائل سروس مسائل پر جامع بریفنگ دی جائے گی۔ یاد رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس 9 دسمبر کو پارلیمنٹ لاجز میں ہوگا۔

دیگر متعلقہ خبریں