روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھارت کے روسی تیل خریدنے کے حق کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خود روس سے ایندھن خریدتا ہے۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھارت کے دو روزہ دورے کے دوران امریکا کی جانب سے بھارت پر روسی تیل نہ خریدنے کے لیے دباؤ ڈالنے پر اعتراض کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خود روس سے ایندھن خریدتا ہے تو بھارت کو اس حق سے کیوں محروم کیا جا رہا ہے؟
بھارتی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں پیوٹن نے کہا کہ امریکا آج بھی روس سے جوہری ایندھن خرید رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر امریکا روس سے جوہری ایندھن خرید سکتا ہے تو بھارت کو روسی تیل خریدنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھتا ہے تو امریکا بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرے گا۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی تیل کی فروخت یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مدد کر رہی ہے۔
پیوٹن نے بتایا کہ روس اور بھارت کے درمیان باہمی تجارت کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ توانائی اور دفاعی تعاون کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیا اور کہا کہ روس تجارتی عدم توازن کو درست کرنے پر کام کر رہا ہے۔
یوکرین جنگ کے حوالے سے پیوٹن نے کہا کہ جنگ کی شروعات روس نے نہیں کی بلکہ یوکرین نے مغرب کے اثر و رسوخ کے تحت خطے میں کشیدگی کو ہوا دی۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو اس وقت تک جنگ جاری رکھے گا جب تک اپنے اہداف حاصل نہیں کر لیتا۔















