ملک میں کپاس کی فصل کی بحالی جدید، اعلیٰ پیداوار والے بیج کی دستیابی پرمنحصر

کپاس کی بحالی کے لئے جدید، اعلیٰ پیداوار والے بیجوں کی فوری دستیابی ضروری ہے، PRA معاہدوں کی تکمیل میں تاخیر رکاوٹ بن سکتی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کپاس کی صنعت کے نمائندوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بڑی کپاس برآمد کرنے والے ممالک کے ساتھ پیسٹ رسک تجزیہ (PRA) معاہدوں کو فوری طور پر حتمی شکل دے، کیونکہ ملک میں کپاس کی فصل کی بحالی کا انحصار جدید، اعلیٰ پیداوار والے بیجوں کی بروقت دستیابی پر ہے۔

پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن (PHHSA) کے بانی چیئرمین شہزاد علی ملک کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کپاس کے بیجوں کی درآمد پر پابندی کا خاتمہ مثبت قدم ہے، لیکن جب تک ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن (DPP) اور بین الاقوامی پلانٹ پروٹیکشن اداروں کے درمیان PRA معاہدے مکمل نہیں ہوتے، پاکستان کو خاطر خواہ فوائد حاصل نہیں ہوں گے۔

شہزاد علی ملک نے کہا کہ ڈی پی پی نے ایتھوپیا کے ساتھ PRA کی رسمی کارروائی شروع کر دی ہے، لیکن یہ اکیلا اقدام قومی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ انہوں نے حکومت سے چین، آسٹریلیا، برازیل، ترکی، میکسیکو، شام، کرغزستان، بلغاریہ، آذربائیجان اور امریکہ جیسے کپاس کے بڑے پیداوار کنندگان کے ساتھ معاہدے جلد از جلد مکمل کرنے کی اپیل کی۔

ملک نے خبردار کیا کہ PRA کی تکمیل میں تاخیر بیجوں کی درآمد میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ PHHSA نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو ایک خط میں خبردار کیا کہ PRA کے دستخط کے بعد بھی پاکستان کا طویل ورائٹی منظوری نظام نئے بیجوں کی ٹیکنالوجی کی رہائی کو اگلی دہائی تک موخر کر سکتا ہے۔

ایسوسی ایشن کے خط کے مطابق، غیر GMO بیج یا پہلے سے منظور شدہ جین والے GMO ورائٹیز کے لئے پانچ سالہ منظوری کا دورانیہ ہوتا ہے۔ جبکہ نئے جین یا ایونٹ والی ورائٹیز کو سات سال کی جانچ سے گزرنا پڑتا ہے۔ موجودہ نظام کے تحت، آج متعارف کرائے گئے کسی بھی نئے اعلیٰ پیداوار والے کپاس کے بیج کم از کم 2030 یا 2031 تک کھیتوں تک نہیں پہنچ پائیں گے۔

دیگر متعلقہ خبریں