وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے کہا کہ نئے چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کو وزیراعظم کی بیرون ملک موجودگی سے جوڑنا غلط ہے، یہ معاملہ نئے عہدے کی تخلیق کے بعد قواعد و ضوابط تیار کرنے کا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیراعظم کے معاون خصوصی اور وزیر مملکت حذیفہ رحمان نے کہا ہے کہ نئے چیف آف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن میں تاخیر کو وزیراعظم کی بیرون ملک موجودگی سے جوڑنا غلط ہے۔ انہوں نےوسیم بادامی کے ٹی وی پروگرام میں بتایا کہ وزیراعظم سرکاری امور ای فائلنگ کے ذریعے نمٹاتے ہیں، جیسے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ بیرون ملک سے منظور ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان سے غلط تاثر پیدا ہوا کہ نوٹیفکیشن وزیراعظم کی واپسی سے منسلک ہے۔ مشیر نے وضاحت کی کہ یہ محض تین لائنوں کا نوٹیفکیشن نہیں بلکہ نئے عہدے کی تخلیق کے بعد قواعد و ضوابط تیار کرنے کا مرحلہ ہے۔ 40-50 سال پرانا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو چکا اور اب نیا عہدہ تشکیل دیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں، اور 1952 کے آرمی ایکٹ کے تحت موجودہ سپہ سالار 2027 تک اپنے منصب پر ہیں، اس لیے فوری نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں۔ رانا ثناء اللہ کو تکنیکی پیچیدگیوں کا علم نہیں تھا، اس لیے انہوں نے جلدی کی بات کی۔
وزیر مملکت نے کہا کہ نیا عہدہ برطانیہ سمیت کئی ممالک میں موجود ہے اور یہ آئینی ترمیم کے ذریعے ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے قائم ہوا ہے۔ انہوں نے نواز شریف کے اصولی موقف کا ذکر کیا کہ ملک کے لیے ضروری توسیع دی جائے، لیکن سودے بازی نہیں ہو گی۔
حذیفہ رحمان نے میڈیا سے اپیل کی کہ قومی سلامتی کے معاملے پر غیر ضروری قیاس آرائیاں نہ کریں، اور توقع ہے کہ قواعد و ضوابط مکمل ہوتے ہی سمری فائنل ہو جائے گی اور جلد نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔














