اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازوں کی منسوخی معمول بن گیا

اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازوں کی منسوخی معمول بن گئی جبکہ کرایوں میں اضافہ طلب و رسد کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزارت دفاع نے سینیٹ میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں وضاحت کی ہے کہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر پروازوں کی منسوخی معمول بن گئی ہے جبکہ کرایوں میں اضافے کو طلب و رسد کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

وزارت نے بتایا کہ سیرین ایئر اور ایئرسیال کی تکنیکی مسائل کے باعث متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں اور سیرین ایئر کا ایئر آپریٹر سرٹیفکیٹ 2 اکتوبر 2025 کو معطل کر دیا گیا، جس کے بعد اس کی تمام شیڈول پروازیں بند ہو گئیں۔ ایئرسیال کو بھی منسوخی پر نوٹس جاری کیے گئے تھے، تاہم اس نے اندرون ملک پروازیں بحال کر دی ہیں۔

وزارت کے مطابق پی آئی اے، ایئربلو اور فلائی جناح کی پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اسلام آباد–کراچی کرایوں میں اضافہ مارکیٹ ڈیمانڈ کے تحت ہوتا ہے اور یہ طلب و رسد، نشستوں کی دستیابی اور بکنگ کے وقت پر منحصر ہے۔

وزارت نے مزید بتایا کہ اندرون ملک فضائی کرایے تقریباً 25 ہزار روپے کے اوسط پر رہے ہیں۔ بعض مواقع پر زیادہ کرایے اس وقت دیکھے گئے جب مسافر روانگی سے قبل ٹکٹ خریدتے ہیں۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی فضائی کمپنیوں کے اخراجات اور منافع پر نظر رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر کرایوں کی بالائی حد مقرر کر سکتی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں