تعلیمی ایمرجنسی کے باوجود پیشرفت نہیں ہوسکی، شرح خواندگی میں کمی برقرار۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے مئی 2024 میں تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کے باوجود ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ وزارت تعلیم نے ستمبر میں وزیراعظم کو تعلیمی ایمرجنسی پر میٹنگ کے لئے خط لکھا، لیکن اب تک کوئی میٹنگ نہیں ہو سکی۔ دسمبر میں وزارت تعلیم دوبارہ کوشش کرے گی کہ وزیراعظم سے میٹنگ کے لئے درخواست کی جائے۔
ملک میں 2011 اور 2015 میں بھی تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا تھا۔ وفاق اور صوبوں کا تعلیم پر خرچ مسلسل کمی کا شکار ہے۔ سال 2018-19 میں تعلیم پر جی ڈی پی کا 2 فیصد خرچ ہوتا تھا جو رواں سال 0.8 فیصد تک خطرناک حد تک پہنچ گیا۔
تعلیمی ایمرجنسی کے تحت ہدف طے کیا گیا تھا کہ آئندہ پانچ برسوں میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ سے کم کر کے 90 لاکھ تک لائی جائے۔ اس کے لیے بجٹ بڑھا کر جی ڈی پی کا 5 فیصد تک کرنا، اساتذہ کی تربیت بہتر بنانا اور پسماندہ علاقوں میں وسائل بڑھانا تجویز کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 2011 اور 2015 میں بھی تعلیمی ایمرجنسی کا اعلان ہوا تھا، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
ملک میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 2 کروڑ 60 لاکھ ہے، جو اسکول جانے والی عمر کے 40 فیصد سے زیادہ بنتی ہے۔ ان میں بچیوں کی شرح 54 فیصد ہے۔ وزارتِ تعلیم نے چار برس کے لیے تعلیمی ایمرجنسی نافذکی تھی، جس کا مقصد ان بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کرنا ہے۔
وزارتِ تعلیم کے اسی ماہ سینیٹ میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں انکشاف ہوا تھا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 89 ہزار 127 تک پہنچ گئی ہے۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان بچوں میں 47 ہزار 849 لڑکے، 41 ہزار 275 لڑکیاں اور 3 خواجہ سرا شامل ہیں۔
اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق، پچھلے 15 سالوں میں شرح خواندگی میں صرف دو فیصد اضافہ ہوا۔ 2010 میں شرح خواندگی 58 فیصد تھی جو 2025 میں 60 فیصد تک پہنچی۔ ملک میں ناخواندہ افراد کی تعداد 6 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی جبکہ 48 فیصد خواتین ناخواندہ ہیں۔















