خیبرپختونخوا میں 83,000 فرانزک نمونے زیر التوا، عدالت کی مداخلت

خیبرپختونخوا میں فرانزک سائنس لیبارٹری میں عملے کی کمی کی وجہ سے 83,000 نمونے زیر التوا ہیں، جس پر پشاور ہائی کورٹ نے مداخلت کی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خیبرپختونخوا حکومت نے پشاور ہائی کورٹ میں فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی رپورٹ جمع کرائی ہے، جس میں جرائم کی تحقیقات میں تاخیر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایف ایس ایل میں عملے کی شدید کمی کی وجہ سے 83,000 نمونے زیر التوا ہیں جبکہ مطلوبہ 85 میں سے صرف 44 افراد دستیاب ہیں۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نومان کاکاخیل نے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کے سامنے رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ عملے کی کمی کے باعث تحقیقات میں تاخیر ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لیں اور فوری اقدامات کریں۔

یہ صورتحال عدالتی جائزے کے تحت سامنے آئی ہے جس کا مقصد قانونی نظام کی بہتری ہے۔ حکومت اور عدلیہ نے مشترکہ طور پر اصلاحاتی اقدامات شروع کیے ہیں تاکہ جرائم کی تحقیقات میں تیزی لائی جا سکے اور شہریوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔

دیگر متعلقہ خبریں