پاکستان میں اسموگ کا سیزن مستقل بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس سے صحت اور معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
پاکستان میں اسموگ کا سیزن اب مستقل سماجی اور معاشی ہنگامی صورتحال کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس سے شہریوں کی ذہنی صحت متاثر ہو رہی ہے۔ لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، پشاور اور اسلام آباد دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پی ایم 2.5 کے طویل اثرات صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ادویات، ڈاکٹر کے معائنے، ماسک اور ایئر پیوریفائر پر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ خراب ہوا اور کمزور وینٹی لیشن کے باعث لوگ زیادہ وقت گھروں کے اندر رہنے پر مجبور ہیں، جس سے چڑچڑاپن اور گھریلو کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
کم آمدنی والے طبقے پر بوجھ زیادہ ہے، جیسے تعمیراتی مزدور اور رکشہ ڈرائیور، جو کھلی فضا میں کام کرنے پر مجبور ہیں اور انہیں معیاری علاج کی مناسب رسائی نہیں۔ ماحولیاتی و سماجی تحقیق کے مطابق ایسے گھرانے بیماری اور طبی لاگت کی وجہ سے غربت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔
دفاتر اور صنعتوں میں بھی پیداواریت متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی تحقیق بتاتی ہے کہ آلودہ ہوا دماغی دھند اور تھکن کا باعث بنتی ہے۔ پاکستانی دفتری عملہ اسموگ کے دنوں میں سر درد اور توجہ کی کمی کی شکایت کرتا ہے، جبکہ عالمی بینک کے مطابق فضائی آلودگی پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا 6 فیصد سے زیادہ نقصان کر رہی ہے۔
طلبہ بھی متاثر ہو رہے ہیں، اساتذہ کے مطابق اسموگ کے دنوں میں حاضری کم ہو جاتی ہے، بچے جلد تھک جاتے ہیں اور سبق پر توجہ برقرار نہیں رکھ سکتے۔ شدید آلودگی کے دنوں میں اسکولوں کی بندش سے تعلیمی سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق آلودہ فضا میں رہنے سے اضطراب اور بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے خاندانی اور سماجی رشتے متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر فضائی آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان کو طویل عرصے تک صحت، تعلیم اور معیشت پر منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔














