غزہ میں جنگ بندی معاہدہ یکطرفہ قرار، خواجہ آصف کی تنقید

خواجہ آصف نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی اور اسرائیل کو خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہیں اور فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے کم از کم 352 فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق، جنگ کے آغاز سے اب تک غزہ میں 70,000 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرم الشیخ میں دستخط کیے گئے اس معاہدے کا مقصد خطے میں استحکام لانا تھا، لیکن اسرائیل کی کارروائیوں نے اس معاہدے پر عمل درآمد کی نیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کا نسل کشی کا عمل ختم نہیں ہوا اور بین الاقوامی برادری، خصوصاً مغربی حکومتوں، کو چاہیے کہ اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی پابندی کے لیے دباؤ ڈالیں۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کو، جنہوں نے معاہدے کی حمایت کی تھی، جیسے کہ ترکی، مصر اور قطر، جاری تشدد کے پیش نظر اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان پہلے ہی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں