افغانستان میں مجوزہ کُلین اپ آپریشن قطر کی درخواست پر مؤخر کیا تھا۔ اسحاق ڈار

پاکستان نے افغانستان میں کلین اپ آپریشن کا ارادہ کیا، مگر قطر کی ثالثی کی درخواست پر رکاوٹ آئی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دہشت گرد حملے برداشت کرنا ممکن نہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں کلین اپ آپریشن کا ارادہ کیا تھا، تاہم قطر کی ثالثی کی درخواست پر یہ کارروائی روک دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ قطر کی وزارتِ خارجہ مسلسل رابطے میں تھی، مگر ثالثی کا عمل کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے 4 ہزار سے زائد فوجی شہادتیں برداشت کی ہیں اور 20 ہزار سے زیادہ جوان زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں کارروائی نہیں چاہتا، مگر دہشت گرد حملے برداشت کرنا ممکن نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ نے تجویز دی کہ پاکستان، قطر، ترکیہ، ایران اور دیگر ممالک مل کر افغانستان کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی بنائیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس میں شامل ہونے پر تیار ہے، مگر حماس کو غیر مسلح کرنے کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا نے بھی مجوزہ فورس پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، مزید مشاورت ضروری ہے۔

اسحاق ڈار نے روس، بحرین اور یورپی یونین کے حالیہ دوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف تسلیم کیا گیا ہے کہ افغانستان میں امن پورے خطے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو اجلاس، ایس سی او کانفرنس اور نیٹو ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی پر گفتگو ہوئی۔

دیگر متعلقہ خبریں