پاکستان غزہ کے لیے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت کے لیے تیار ہے، تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط منظور نہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان غزہ کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے، البتہ اس فورس کے دائرہ کار میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کا کردار امن قیام تک محدود ہوگا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکہ کی ثالثی سے تیار ہونے والے غزہ امن معاہدے میں مسلم اکثریتی ممالک پر مشتمل فورس کی تشکیل شامل ہے اور پاکستان کی شمولیت پر مشاورت آخری مراحل میں ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اصولی طور پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم حتمی فیصلہ فورس کے مینڈیٹ اور ٹی او آر طے ہونے کے بعد ہوگا۔
وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ حماس کی غیر مسلح کرنے کا معاملہ پہلی بار ریاض میں دو ریاستی حل سے متعلق اجلاس میں اٹھا تھا۔ انڈونیشیا نے بھی غیر رسمی طور پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور 20 ہزار اہلکار فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔
گزشتہ ماہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی واضح کیا تھا کہ پاکستان کسی ایسی فورس کا حصہ نہیں بنے گا جس کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا ہو۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب آصف افتخار احمد نے کہا تھا کہ فورس کا مینڈیٹ اقوام متحدہ کے مطابق ہونا چاہئے۔
وزیر خارجہ نے افغانستان سے متعلق حالیہ تناؤ پر بھی گفتگو کی اور بتایا کہ قطر نے آخری لمحات میں مداخلت کرکے پاکستان کے ممکنہ جوابی ایکشن کو روکنے کی درخواست کی تھی۔ قطر اور ترکی کی ثالثی کے باوجود معاملات میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔













