مصطفیٰ نواز کھوکھر اور تیمور جھگڑا نے این اے 18 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے، الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پریس کانفرنس میں این اے 18 کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں کو انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا ہے اور عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کر سکتا جبکہ بانی پی ٹی آئی ایک سیاسی حقیقت بن چکے ہیں۔
تیمور جھگڑا نے بھی پریس کانفرنس میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ فارم 45، 46 اور 47 ابھی تک ریلیز نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہری پور میں ڈیٹا انٹری کے دوران سیل ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور اصل ووٹ ڈالے نہیں گئے۔
پی ٹی آئی رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے دعویٰ کیا ہے کہ ہری پور ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی نے 25 ہزار ووٹ کی برتری حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ شہرناز عمر ایوب کو 1 لاکھ 49 ہزار 782 جبکہ بابر نواز کو 1 لاکھ 24 ہزار 686 ووٹ ملے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ 600 فارم 45 کی کتاب تیار کی گئی ہے اور اصل نتیجہ ان کے پاس موجود ہے۔
تیمور سلیم جھگڑا نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو وزیر اعظم کے بعد دوسری بڑی پوزیشن حاصل ہے، تاہم انہیں دو روز قبل ملنے نہیں دیا گیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ 8 فروری 2024ء کو جو ہوا وہی ہری پور کے 2025ء ضمنی الیکشن میں بھی ہوا، قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے تنقید کی کہ الیکشن کمیشن نے صرف ایک فارم 47 جاری کیا اور انتخابی عمل پر اربوں روپے ضائع کیے جا رہے ہیں۔
جھگڑا نے الزام لگایا کہ نتائج میں تبدیلی کی گئی اور پی ٹی آئی کے امیدوار کی لیڈ کو شکست میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے انتخابات میں عوام کا اعتماد ختم ہو چکا ہے اور ہری پور الیکشن کا ٹرن آؤٹ دس فیصد سے زیادہ تھا۔














