سردی میں ٹوپی نہ پہننے سے بال جھڑنے کا دعویٰ سائنسی یا غیر سائنسی؟

ماہرین کے مطابق سردی میں ٹوپی نہ پہننے سے بال جھڑنے کا دعویٰ غیر سائنسی ہے۔ بال جھڑنے کی وجوہات ہارمونز، جینیات اور غذائی کمی سے جڑی ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ سردی کے دوران ٹوپی نہ پہننے سے بال جھڑنے لگتے ہیں۔ تاہم، جلد اور بالوں کے ماہرین نے اس دعوے کو غلط اور غیر سائنسی قرار دیا ہے۔

ڈرماتولوجسٹ کے مطابق، سرد موسم میں جسم حرارت محفوظ رکھتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سر کی جلد تک خون کی فراہمی اتنی کم ہو جائے کہ بال جھڑنے لگیں۔ بال جھڑنے کی بنیادی وجوہات ہارمونز، خاندانی جینیات، غذائی کمی، تناؤ، اور بیماریوں سے جڑی ہوتی ہیں۔

البتہ سردیوں میں ٹوپی پہننے کا براہ راست مثبت اثر بالوں کی صحت پر پڑتا ہے، کیونکہ یہ سرد ہوا کے نقصان دہ اثرات سے بالوں کو محفوظ رکھتی ہے۔

سرد موسم میں بال ٹوٹنے کا مسئلہ عام ہے جس کی وجہ ہوا کی خشکی ہے۔ ٹوپی بالوں کو نمی فراہم کرتی ہے اور سرد ہوا سے بچاتی ہے، جس سے بال ٹوٹنے سے محفوظ رہتے ہیں۔

اگرچہ ٹوپی پہننا بال جھڑنے کو نہیں روکتا، لیکن یہ بالوں کی نمی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، بہت تنگ یا گندی ٹوپی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ بالوں کو کھینچ سکتی ہے یا سر کی جلد پر انفیکشن کا باعث بن سکتی ہے۔؎

جلد کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرد موسم میں بالوں کی دیکھ بھال کے لیے مناسب نمی، ہلکا تیل، اور سخت شیمپو سے پرہیز ضروری ہوتا ہے۔ خون کی روانی میں کمی کو ٹوپی پہن کر درست کرنے کا تصور محض ایک عام غلط فہمی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی سطح پر کی جانے والی متعدد طبی تحقیقات کے مطابق بال جھڑنے کا موسمِ سرما سے براہ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں