لوہے اور اسٹیل اسکریپ کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ

ملک میں آئرن اور اسٹیل اسکریپ کی درآمدات میں ریکارڈ اضافہ، تعمیراتی شعبے میں بہتری کا عندیہ۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ملک میں آئرن اور اسٹیل اسکریپ کی درآمدات میں تیزی برقرار ہے اور اکتوبر میں یہ حجم بڑھ کر 3 لاکھ 81 ہزار 991 ٹن کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، جو ستمبر کے 3 لاکھ 66 ہزار 610 ٹن کے پچھلے ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ اس اضافے سے عندیہ ملتا ہے کہ تعمیراتی شعبے، خصوصاً اسٹیل بارز کی تیاری میں بہتری آئی ہے جو رہائشی اور انفرا اسٹرکچر منصوبوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

ریکارڈ درآمدات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ پرانے ہائی رائز منصوبوں پر دوبارہ کام شروع ہوا ہے جو مختلف وجوہات کے باعث تاخیر کا شکار تھے۔

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق جولائی تا اکتوبر مالی سال 2026 میں آئرن اور اسٹیل اسکریپ کی مجموعی درآمدات 12 لاکھ 99 ہزار ٹن رہیں جن کی مالیت 680 ملین ڈالر ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ حجم 8 لاکھ 19 ہزار 650 ٹن تھا جس کی مالیت 664 ملین ڈالر تھی۔ یوں مقدار میں 58.5 فیصد اور مالیت میں 2.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اوسط فی ٹن قیمت 810 ڈالر سے کم ہو کر 523 ڈالر رہ گئی۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف لارچ اسٹیل پروڈیوسرز کے سیکریٹری جنرل سید واجد بخاری نے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث اسٹیل بارز کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عارضی اضافہ نہیں بلکہ یہ رجحان جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ حقیقی طلب کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت تعمیراتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے، جن میں اپنا گھر اپنا آشیانہ منصوبہ بھی شامل ہے جس کے جلد آغاز کی توقع ہے۔ ان اقدامات کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں اسکریپ کی قیمتوں میں کمی کے بعد مقامی مارکیٹ میں ری بارز کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی مقررہ کم از کم قیمت کے تحت اسٹیل بار کی فی ٹن قیمت 2 لاکھ 42 ہزار روپے ہونی چاہیے، لیکن مارکیٹ میں اس وقت قیمت 2 لاکھ 20 ہزار روپے فی ٹن ہے۔

دوسری جانب، سیمنٹ کی ملک میں ترسیلات جولائی تا اکتوبر مالی سال 2026 میں 18 فیصد اضافے کے ساتھ 1 کروڑ 38 لاکھ 49 ہزار ٹن رہیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1 کروڑ 17 لاکھ 28 ہزار ٹن تھیں۔ یہ اضافہ پوسٹ مون سون تعمیراتی سرگرمیوں کے آغاز اور سیلابی رکاوٹوں میں کمی کے بعد سامنے آیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں