ایف آئی اے نے مسافروں کی بلاجواز آف لوڈنگ کی رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف مشتبہ دستاویزات والے افراد کو روکا جاتا ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایف آئی اے نے حالیہ دنوں میں مسافروں کی بلاجواز آف لوڈنگ کی رپورٹس پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف وہی افراد بیرونِ ملک سفر سے روکے جا رہے ہیں جن کے سفری دستاویزات مکمل نہیں یا جن پر انسانی اسمگلروں کے ساتھ رابطوں کا شبہ ہو۔
ایف آئی اے لاہور زون کے ڈائریکٹر کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد علی ضیاء نے اپنے ویڈیو بیان میں گمراہ کن ویڈیوز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف جعلی ویزوں یا مشتبہ نیٹ ورک سے جڑے افراد کو روکا جا رہا ہے جبکہ جائز مقصد کے لیے سفر کرنے والوں کو نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض مسافر انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آ کر راستے تبدیل کرتے ہیں یا رشتہ دار کے ساتھ عمرہ ویزے کے تحفظ میں بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے افراد کو دیگر ممالک سے ڈی پورٹ بھی کیا جا چکا ہے۔
کیپٹن ضیاء نے انسانی اسمگلنگ کے واقعات کو پاکستان کی بدنامی کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گرین پاسپورٹ کی قدر کو بھی متاثر کرتے ہیں اور عوام سے اپیل کی کہ اسمگلروں کے جھانسے میں نہ آئیں۔
گوجرات چیمبر آف کامرس کے صدر احمد حسن مٹو نے کاروباری افراد کی آف لوڈنگ پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ ایف آئی اے گوجرانوالہ زون کے ڈائریکٹر محمد بن اشرف نے کہا کہ کوئی نئی سخت پالیسی نہیں اپنائی گئی۔














