آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پاکستان کی مالیاتی کمزوریوں پر تشویش

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پاکستان کی مالیاتی کمزوریوں اور بجٹ عدم شفافیت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی مالیاتی کمزوریوں اور بجٹ عدم شفافیت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزارتِ خزانہ مالی نظم و ضبط اور عوامی وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ پاکستان کمزور بجٹ ساکھ اور مالیاتی نظم کے مسائل کا شکار ہے، جس سے گورننس کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے انتظام میں خامیوں اور فنڈنگ کے تسلسل میں رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

فنڈ کے مطابق کمزور سنگل ٹریژری اکاؤنٹ فریم ورک حکومتی نقدی ذخائر پر کنٹرول کو متاثر کرتا ہے۔ قرضوں کے انتظام سے متعلق محکموں کے باہمی اختیارات فیصلہ سازی میں رکاوٹ بنتے ہیں، جبکہ اثاثوں کی نگرانی کا نظام ناکافی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سرکاری ادارے بجٹ وسائل استعمال کرتے ہیں لیکن احتساب کے دائرہ کار سے باہر رہتے ہیں، جس سے بدعنوانی کے خطرات بڑھتے ہیں۔ قومی اسمبلی نے مالی سال ۲۰۲۴۔۲۰۲۵ کے دوران اضافی اخراجات کی منظوری دی، جو گزشتہ سال سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔

آئی ایم ایف نے مؤثر مالی نظم کے لیے کیش مینجمنٹ، قرضوں کے انتظام اور اثاثوں کی نگرانی میں اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں کیش پیش گوئی کے نظام کی مضبوطی اور سنگل ٹریژری اکاؤنٹ کے دائرہ کار کے تعین کی تجویز دی گئی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں