وفاقی حکومت نے چیف جسٹس کے بینچ تشکیل دینے کے اختیارات پر کوئی قانون سازی نہیں کی اور اپیل کا حق بھی نہیں دیا گیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی حکومت نے آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے بینچ تشکیل دینے کے اختیارات کو قانون کے ذریعے ریگولیٹ کرنے کا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے، جبکہ آئینی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
سابق اٹارنی جنرل نے بتایا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیرِ التوا انٹرا کورٹ اپیلیں ہی سنی جا سکتی ہیں، لیکن آئینی عدالت کے مستقبل کے فیصلوں کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی جا سکے گی۔
آئینی عدالت کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حق کی عدم فراہمی پر ایک سرکاری اہلکار نے تسلیم کیا کہ جب تک آئینی عدالت اپنے قواعد میں گنجائش نہیں دیتی یا پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے ذریعے حق فراہم نہیں کیا جاتا، اپیل کا حق موجود نہیں ہے۔
حکومت کی جانب سے اپیل کے حق کے لیے قانون سازی کرنے کا ارادہ غیر واضح ہے۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں حکمران جماعتوں نے بینچ تشکیل دینے کے صوابدیدی اختیار پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
پی ڈی ایم حکومت نے اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 متعارف کرایا تھا، جس میں عوامی مفاد کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف اپیل کا حق بھی شامل کیا گیا تھا۔














