پاکستان کے کابل حملوں سے افغان طالبان میں خوف، دہشت گردی میں کمی

پاکستان کے کابل حملوں سے افغان طالبان میں خوف پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں سرحد پار دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) گزشتہ ماہ پاکستان کے کابل میں کالعدم ٹی ٹی پی کے سینئر کمانڈروں کو نشانہ بنانے والے حملوں نے افغان طالبان کی قیادت میں خوف پیدا کیا جس کے نتیجے میں سرحد پار دہشت گرد حملوں میں قابل ذکر کمی دیکھی گئی۔

کابل کے وسط میں کیے گئے ان حملوں کا مقصد طالبان حکومت کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو اپنی سرزمین تک محدود نہیں رکھے گا۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ان حملوں نے افغان طالبان کی قیادت اور سیکیورٹی مشینری پر واضح نفسیاتی اثر ڈالا، جس سے وہ سمجھ گئے کہ ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کا تعاقب ہر جگہ کیا جائے گا۔

حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد افغان طالبان کے ترجمانوں نے نجی طور پر پاکستانی حکام سے رابطہ کیا اور کشیدگی میں کمی کی درخواست کی، یہ کہتے ہوئے کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر حملے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔

یہ غیر معمولی پیش رفت ہے کیونکہ ماضی میں پاکستانی خدشات کو نظرانداز کیا جاتا تھا یا الزام ٹی ٹی پی پر ڈال دیا جاتا تھا۔ اب افغان طالبان نے پس پردہ درخواست کی ہے کہ ان کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ انہیں پاکستان کی انتقامی کارروائیوں کا خوف ہے۔

کابل حملوں کے بعد سرحد پار دہشت گردی کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ یہ کمی اس دھاک کی وجہ سے ہے کہ پاکستان افغانستان کے اندر ہائی ویلیو اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور طالبان کو دہشت گردی کی قیمت کا اندازہ ہو چکا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں