بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے امکانات کو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے رد کر دیا۔
کوئٹہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے پارلیمانی رہنما سلیم کھوسہ اور پیپلزپارٹی کے رہنما علی مدد جتک نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی تبدیلی کے امکانات کو رد کر دیا ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں امن و امان کی صورتحال پر اراکین کے لیے ان کیمرہ بریفنگ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن بلوچستان کے پارلیمانی لیڈر سلیم کھوسہ نے کہا کہ ان کا مسلم لیگ ن کی قیادت سے رابطہ ہوا ہے اور اس میں یہ بات سامنے آئی کہ وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی بات زیر غور نہیں۔
سلیم کھوسہ نے نشاندہی کی کہ انہوں نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ڈھائی، ڈھائی سال کے معاہدے کی بات سنی ہے۔ ن لیگ کے پارلیمانی رہنما نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی کی حکومت میں موجودگی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی پر اعتماد کا اظہار ہے جو امن و ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنما علی مدد جتک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ دوستین ڈومکی کے بیانات کو سنجیدہ نہ لیا جائے اور بلوچستان حکومت میں ان ہاؤس تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرفراز بگٹی کو پیپلز پارٹی اور صدر آصف زرداری کا اعتماد حاصل ہے۔
موجودہ وزیر اعلیٰ نے پی پی اور ن لیگ کی قیادت کو مایوس کیا ہے، تاہم علی مدد جتک کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف بیانات دینے والے لوگ خود کو میڈیا میں زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔














