وزیراعظم بےاختیار ہیں،عمران خان سےملاقات کےلئےدوبارہ کال نہیں کروں گا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا

وزیراعلیٰ کے پی نے عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کے لئے وزیراعظم کو دوبارہ کال نہیں کریں گے کیونکہ اگر کسی کے پاس اختیار نہیں، تو بات کرنے کا کیا فائدہ۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم آئین و قانون کی حدود میں رہ کر راستے تلاش کر رہے ہیں، عدالتی احکامات کے باوجود کوئی ہمیں روک رہا ہے۔ تین ججز کے احکامات کے باوجود ایس ایچ او کا کہنا کہ انہیں علم نہیں، اداروں کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ آئین و قانون کی پاس داری نہ ہونے کی وجہ سے تلخی ہے، لیکن ان کا لہجہ غیر آئینی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی کے تجربے کی بنیاد پر بات کی ہوگی، اور ہمیں تنظیمی ذمہ داریاں نبھانی ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم کو پہلی ہی دن درخواست کی تھی کہ کچھ کریں تاکہ وہ عمران خان سے مل سکیں، لیکن مناسب جواب نہ ملنے پر دوبارہ کال نہیں کی۔ وفاق سے اچھے تعلقات کی خواہش تھی لیکن اب مناسب نہیں سمجھتے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پی کے تین ہزار بلین روپے کے واجبات دے، تاکہ ترقی میں پیچھے نہ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کا مقدمہ درج ہونا ان کی آمد کے فضول نہ ہونے کا ثبوت ہے، ان کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی میں انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن نہیں رکے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پالیسی اپنانا ہوگی۔ بیس سال سے دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی تو پالیسی تبدیل کرنی چاہیے، شہری اور فوجی شہداء کے تحفظ کے لئے نئی حکمت عملی ضروری ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں