اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محسن کیانی نے آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا اور پولیس کے اقدامات پر برہمی کا اظہار کیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ میں پولیس تفتیش اور اخراج مقدمہ کے کیس کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے اہم ریمارکس دیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ کیس آئینی عدالت کا نہیں بنتا، کیونکہ آئینی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں مسائل پیش آ سکتے ہیں۔
جسٹس کیانی نے کہا کہ آئینی عدالت کے دائرہ کار کا مسئلہ رہ سکتا ہے، جب کیس مقرر ہوگا تو سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے دائرہ کار پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ نئی ترمیم کی روشنی میں وکلاء اور ججز کو معلومات کی کمی کا سامنا ہے اور سمجھنے میں وقت لگے گا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاہور اور بہاولپور سے کم سن بچیوں اور والدہ کے اغوا کے کیس کی سماعت ہوئی۔ وقاص احمد اور سہیل علیم کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ایف آئی اے کو تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کی، تاہم فائنل آرڈر جاری نہ کرنے کا کہا۔
دوران سماعت جسٹس کیانی نے پولیس کے اقدامات پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جعلی مقدمات کے ذریعے بچیوں اور عورت کو اغوا کرنا انصاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے اقدامات کا معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھیجا گیا ہے اور جعلی پرچے جرح میں برقرار نہیں رہ سکیں گے۔
جسٹس کیانی نے مزید کہا کہ خواتین اور بچوں کے اغوا کے مقامات کی جانچ ضروری ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔ عدالت نے سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کر دی۔














